دنیا کا سب سے بڑا انسانی اجتماع، اربعین حسینیؑ یا کمبھ میلہ؟


سب سے بڑا انسانی اجتماع، اربعین حسینیؑ یا کمبھ میلہ؟

جب دنیا میں سب سے بڑے انسانی اجتماع کی بات ہوتی ہے تو اربعین حسینیؑ  کے علاوہ ایک اور نام بھی سامنے آتا ہے “کمبھ میلہ”۔  

کمبھ میلہ  ہر تین سال بعد منعقد ہوتا ہے، تاہم اس میلے کا اہم اور بڑا میلہ ہر بارہ سال بعد منعقد ہوتا ہے،اس اجتماع کے ہر تین سال بعد منعقد ہونے والے میلے مرکزی میلے کا حصہ ہی ہوتے ہیں۔مہاکمبھ میلے کے دوران جو چار میلے منعقد ہوتے ہیں ان میں ’ہردوار کمبھ میلا، اللہ آباد کمبھ میلہ، ناستک سنشٹھ میلہ اور اوجین سنشٹھ میلہ شامل ہیں۔

یہ میلے ہندو مہینوں کے مطابق ہوتے ہیں جو عام طور پر جنوری سے اپریل تک آتے ہیں اور ان ہی مہینوں میں ان کا انعقاد کیا جاتا ہے جو تقریبا آٹھ ہفتوں تک جاری رہتا ہے۔ یہ میلے بھارت کی چار ریاستوں اترا کھنڈ، مدھا پردیش، اتر پردیش اور مہارا شٹر کے چار شہروں کے قریب ہندوؤں کے لیے مقدس دریائے گنگا، جمنا(اللہ آباد) اور سروسوتی کے کناروں کے قریب منعقد کیے جاتے ہیں۔

ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ ان دریاوں کے پانی میں نہانے سے ان کے گناہ دھل جائیں گے اور انھیں 'موکش' یعنی بار بار جنم لینے کے چکر سے نجات حاصل ہو جائے گی۔ ہندو افسانوں کے مطابق، دیوتاؤں کی راکشسوں پر فتح کا جشن کمبھ میلہ میں منایا جاتا ہے۔

راکشسوں کے ساتھ جنگ میں وہ امرت(اب بقا) حاصل کرنا تھا جسے دیوتاؤں نے پیا اور لافانی ہونے کا باعث بنا۔ اس جنگ کے دوران اس امرت کے قطرے اللہ آباد اور کئی دوسرے شہروں میں گرے اور اسی وجہ سے ان شہروں میں میلے منعقد ہوتے ہیں، بی بی سی نیوز کے مطابق ۲۰۱۹ کمبھ میلہ میں ۱۱۰ میلین ہندو شریک ہوئے۔

زیادہ تر شارکین جو مختصر وقت کے لیے وہاں آئیں گے وہ اپنا کھانا ساتھ لائیں گے۔ لیکن ایسی مذہبی تنظیموں اور انفرادی شارکین کے لیے کیمپ لگائے جاتے ہیں جو وہاں ایک ماہ تک قیام کریں گے وہ عام طور پر کھانے کی فراہمی کے لیے حکام پر انحصار کرتے ہیں، بی بی سی نیوز کے مطابق ۲۰۱۹ کمبھ میلہ کے انعقاد کےلئے انڈین حکام کے جانب سے ۲۸ ارب روپے مختص کیا گیا تھا۔

اس میلہ کے سب سے اہم حصوں میں سے ایک "رہنماؤں کا گروہ" مذہبی رہنماؤں یا سادھوؤں کی موجودگی ہے۔

 "ننگے سادھو" سب سے پہلے پانی میں داخل ہوتے ہیں، جن کے جسم راکھ سے ڈھکے ہوتے ہیں، اس کے بعد یاتری(عوام)  آتے ہیں۔


زیارت اربعین

دوسری طرف ھر سال زائرین بروز چہلم( بیس صفر) زیارت اربعین کی بجا آوری کے لئے نجف سے کربلا کے جانب تقریبا ۸۰  کلومیٹر مشی(پیدل چلنا) کرتے ہیں ،یہ مشی کے راستوں میں سے مشہورترین راستہ ہے۔ 

 ( " اربعین حسینیؐ کے بارہ میں پڑھیں "اربعین حسینیؑ رمز بقائے یاد حسینؑ")

https://rahimhussainkhorasani.blogspot.com/2023/09/Arbaeen%20ki%20Ahmmiyat%20or%20Khsosiyat.html

 اگرچہ اربعین واضح طور پر ایک شیعہ تقریب ہے، لیکن سنی اور حتیٰ کہ عیسائی، ایزیدی، زرتشتی وغیرہ بھی اس تقریب میں بطور زائر اور زائروں کے خادموں کی حیثیت سے شرکت کرتے ہیں۔ اگر ہم مذہبی رسومات کی انحصاری نوعیت پر توجہ دیں تو ہم دیکھیں گے کہ یہ واقعہ کتنا اہم ہے، اور اس کا ایک ہی مطلب ہوگا: لوگ - رنگ و نسل سے قطع نظر - حسین ابن علی کو ایک ہمہ گیر، بے حد و مرز، مذھب سے بالاتر ۔ - آزادی اور قربانی کا مظہر  مانتے ہیں۔ زیارت کے لئے بھی کسی مذھبی  پیشوا یا رہنما کی  ضرورت نہیں ، حسین در اصل انسانیت اور 

یکساں انسانی حقوق کے علمبردار ہے۔

اس مشی کا ایک منظر جو ہر دیکھنے والے کو حیران کر دے گا وہ ہزاروں موکب کا نظارہ ہے ، جو اس مسیر کے محدودہ میں رہنے والے دیہاتیوں کے ذریعہ بنائے گئے موبائل کچن ہیں، موکب وہ جگہیں ہیں جہاں زائرین کی تمام ضروریات مہیا کی جاتی ہیں۔ تازہ کھانے سے آرام کرنے کی جگہ تک؛ مفت بین الاقوامی فون سے بچوں کے جھولے تک؛ سب کچھ مفت ہے۔ درحقیقت ۸۰ کلومیٹر کے اس راستے پر زائرین کرام کے لیے اپنے کپڑوں کے علاوہ کچھ بھی ساتھ لے جانا ضروری نہیں ہے۔

زیادہ حیران کن زائرین کو کھانے پینے کی دعوت دینے کا طریقہ ہے۔موکب  کے کارکن سڑک کے بیچوں بیچ آتے ہیں اور زائرین سے ان کی پیشکش قبول کرنے کی التجا کرتے ہیں۔ اکثر ان پیشکش میں زائرین کے لیے وہ مکمل سروس شامل ہوتی ہے جو پادشاہوں اور سلاطین کا شایان شان ہیں۔ سب سے پہلے، وہ آپ کے پیروں کی مالش کرتے ہیں، پھر وہ آپ کو ایک لذیذ کھانا دیتے ہیں، پھر وہ آپ کو آرام کرنے کی دعوت دیتے ہیں، آپ کے کپڑے دھوتے اور استری کرتے ہیں، آپ کی جوتی پالش کرتے ہیں، یقیناً یہ سب کچھ وہ فخر سے کرتے ہیں۔ دنیا کے اور کس انسانی اجتماع میں آپ کو ایسے لوگ ملیں گے جو اپنا سب کچھ اپنی رضا سے بڑھ کر التجا کرتے ہوئے قربان کرتے ہو!

اربعین حسینیؑ کی عظمت  کو درک کرنے اور آپ کی تقریب ذھن کےلئے اس نکتہ پر توجہ دیں، یکم صفر سے شروع ہونے والی یہ مشی جو بیس صفر کو اپنے نقطہ اختتام کو پہنچتی ہے جس میں اس سال(۲۰۲۳) آفیشل ذرائع کے مطابق  ۲۲ میلین سے زائد زائرین نے شرکت کی ہیں، اس دورانیہ میں  ۱۳۲۰ میلین مکمل پورشن کھانا تقسیم کیا جاتا ہے، تمام کھانا اقوام متحدہ یا کوئی اور بین الاقوامی خیراتی ادارہ نہیں بلکہ غریب مزدوروں اور کسانوں کی طرف سے فراہم کیا جاتا ہے جو زائرین کی خدمت کرنا پسند اور سارا سال بچت کرتے ہیں۔

لوگ کربلا جاتے ہیں، لیکن اس کے مناظر سے لطف اندوز ہونے، اس کی خوبصورتی سے پرجوش ہونے، خریداری کرنے اور تاریخی مقامات دیکھنے کے لیے نہیں، وہ رونے جاتے ہیں۔ ماتم کرنا اور حسین کے مزار کے روحانی ماحول کو درک کرنا۔ وہ حسین کے مزار میں داخل ہوتے ہیں  انسانی تاریخ کی سب سے بڑی قربانی پر گریہ و ماتم کرنےکےلئے۔

زائرین  جن میں  مختلف مذاھب ، رنگ و نسل کے لوگ شامل ہیں جو دنیا کے  اقصا و اکناف سے اپنے گناھوں کو دھلنے نہیں بلکہ  بلا جبر و الزام تمام تر مشکلات اور اربعین کے خلاف پروپیگنڈے کے باوجود  شہید راہ حق و آگاھی و آزادی کی یاد کو تازہ اور امام ؑ کے مقاصد کو زندہ رکھنے کےلئے اس مقدس سفر کا عزم کرتے ہیں۔ 

کسی اجنبی کے لیے یہ سمجھنا آسان نہیں ہے کہ ان زائرین کو کیسے اور کہا سے امید اور طاقت ملتی ہے۔ اس راستے پر آپ کو بہت سی خواتین نظر آئیں گی جن کے بانہوں میں بچے ہوں گے، مرد وہیل چیئر پر ہوں گے، بیساکھیوں والے اور بہت سارے  نابینا لوگ ہوں گے۔ ایک باپ جس نے اپنے معذور بیٹے کے ساتھ بصرہ سے کربلا تک کا سفر کیا تھا۔ بارہ سالہ لڑکا ذہنی طور پر معذور تھا اور دوسروں کی مدد کے بغیر چل نہیں سکتا تھا۔ راستے کے کچھ حصے، باپ نے لڑکے کو کندھے پر ڈالا اور چل پڑا۔ یہ ایک ایسی کہانی ہے جسے آسکر کے لائق فلم بنایا جا سکتا ہے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ ہالی ووڈ  کا مزاحیہ کتب کے ہیروز  سے سروکار ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ ہر ایک  زائر کا ایک ایسے شخص سے ذاتی تعلق ہے جس سے وہ کبھی نہیں ملے۔ وہ اس سے بات کرتے ہیں اور اس کا نام پکارتے ہیں، وہ اس کے مزار کو پکڑتے ہیں اور مزار کی زمین کو چومتے ہیں، وہ وہاں کے دروازے اور دیوار کو ایسے چھوتے ہیں جیسے وہ کسی پرانے قریبی دوست کے چہرے کو چھو رہے ہو، یہ ایک مہاکاوی تصویر ہے۔ ان زائرین کا محرک کیا ہے؟ امام حسین علیہ السلام کی شخصیت اور عظمت کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور یہ بھی درک کرنے کی ضرورت ہے کہ ان کا امام حسینؑ  کی ابدی تاریخ سے کس قسم کا روحانی تعلق قائم ہے۔

یہ زیارت اربعین حسینیؑ کی ان خصوصیات میں سے چند ہیں جو اربعین کو کمبھ میلہ یا روی زمین ،کسی اور انسانی اجتماع سے خاص، منفرد اور ممتاز بنادیتی ہیں۔


نتیجہ گیری

بڑا یا مہا کمبھ میلہ ہر بارہ سال ایک مرتبہ ہندو  مسلک سے تعلق رکھنے والے منعقد  کرتے ہیں  جو دو مہینہ تک چلتاہے، لیکن اربعین حسینیؑ ھر سال برپا ہوتا ہے جس کا دورانیہ ۲۰ دن ہے، بالا مذکورہ مطالب کو ملاحظہ کرتے ہوئے یہ ادعا کرنا کے اربعین حسینی ؑ اپنی نوعیت کا دنیا بلکہ تاریخ بشریت میں سب سے بڑا انسانی اجتماع ہے ، باطل نہ ہوگا۔

لیکن آپ نے اس واقعہ کے بارے سوشل میڈیا اور خبروں میں کبھی کچھ کیوں نہیں سنا؟ غالباً اس کا تعلق اس حقیقت سے ہے کہ میڈیا عموما اور خاص طور پر جب اسلام کا سامنا کرتا ہے تو مثبت اور امید افزا بیانیہ سے زیادہ منفی، سیاہ اور افراطی تصویر سے تعارف کراتا ہے۔ اگر چند امیگریشن مخالف مظاہرین لندن کی سڑکوں پر جمع ہوتے ہیں تو وہ سرخیوں میں ہوں گے۔ ہانگ کانگ میں جمہوریت نواز مارچ یا روس میں پوٹن مخالف ریلی پر بھی اتنی ہی توجہ دی جائے گی۔ لیکن دہشت اور ناانصافی سے بھرے کشیدہ ماحول میں ۲۲ میلین کے اجتماع کی ٹیلی ویژن کی خبروں میں بھی کوئی جگہ نہیں ہے۔اس شاندار تحریک کو خاموش رکھا گیا ہے۔ یہاں تک کہ اگر اس میں ایک متاثر کن اجتماع اور تحریک کے تمام اجزاء موجود ہو؛ متاثر کن تعداد، سیاسی اہمیت، انقلابی پیغام، کشیدہ ماحول اور اصلیت جیسے اجزاء۔ لیکن اگر یہ خبر خبروں کے ایڈیٹرز کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے تو یہ بہت سے لوگوں کو حیران اور متاثر کرے گی اور یزیدیت کے عزائم خاک سے ہمکنار ہونگے۔یہ کیسے ممکن ہے کہ ۱۳۸۴ سال پہلے مارا جانے والا شخص اتنا زندہ اور حاضر ہے کہ کروڑوں لوگ اس کی مصیبت کو اپنی مصیبت سمجھتے ہیں؟ بعید ہے کہ لوگ کسی ایسے  تنازع میں پڑ جائیں جس سے انہیں ذاتی تعلق نہ ہو۔ دوسری طرف، اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ کسی نے آپ کی آزادی، آپ کے ساتھ منصفانہ سلوک کرنے کے حق، اور عزت کے ساتھ جینے کے  حق کے لیے جنگ لڑی ہے، تو آپ  احساس  کریں گے کہ آپ اسے بہت پسند کرتے ہیں اور اس کے ساتھ وابستہ ہیں، یہاں تک کہ اس بات کا امکان ہے کہ آپ اس کے عقائد اور آراء کو بھی اپنائے۔

اگر دنیا حسین، ان کے پیغام اور ان کی قربانیوں کو سمجھے تو وہ داعش  اور افراطی گروہوں کی تاریخی جڑوں اور خون بہانے کی خواہش کو سمجھیں گے۔ صدیوں پہلے کربلا میں انسانیت نے ایسے خبائث  دیکھے جس کا نظیر تاریخ میں نہیں ملتا۔ روشنی اندھیرے اور نیکی برائی کے مقابل تھی۔ حسینؑ کی موجودگی آپ ؑکے چاہنے والوں کی زندگی کے تمام پہلوؤں میں موجزن ہے، کسی قسم کا میڈیا بائیکاٹ اس کی روشنی کو بجھا نہیں سکتا۔

درحقیقت اربعین حسینیؑ کو گنیز بک آف ریکارڈز میں کئی عناوین  سے درج کیا جانا چاہیے: سب سے بڑا سالانہ اجتماع، سب سے طویل مسلسل کھانے کی دسترخوان، سب سے زیادہ لوگ جو مفت میں کھاتے ہیں، سب سے زیادہ مخیرین جو مفت میں کھانا پیش کرتے ہیں، سب سے بڑا رضاکار گروپ جو زائرین کی ھمہ وقت خدمت کرتا ہے، اور یہ سب کچھ ایسی جگہ میں جہاں ہر آن دشمن کے حملوں کا خطرہ ہو۔

 کیا یہ ایک معجزہ نہیں!


رحیم حسین محقق زادہ خراسانی


Comments

Popular posts from this blog

اربعین حسینی ؑ رمز بقائے یاد حسینؑ

حوزوی عناوین اور لقب علّامہ