Posts

حوزوی عناوین اور لقب علّامہ

Image
حوزوی عناوین اور لقب علّامہ اصل مطلب کی طرف جانے سے پہلے ایک مقدمہ لازمی ہے۔ مقدّمہ  حوزات علمیہ کا تدریسی نظام تین مراحل پر مشتمل ہے : مقدمات، سطح اور خارج۔ مقدّمات طالب علم کو شروع میں تین سال کے ابتدائی کورسز سے گزرنا پڑتا ہے، پاکستان میں یہ مرحلہ عموما ۴ سے پانچ سال پر مشتمل ہوتا ہے، جس میں مذہبی متون کے مطالعہ کے لیے آلاتی علوم کا ایک مجموعہ شامل ہے، من باب مثال، اس ابتدائی کورس میں،عربی زبان کے قوائد( Arabic literature  ) اور منطق جو کہ سوچنے کا صحیح طریقہ سکھاتا ہے اور ادبی متون کا تجزیہ کرنے کا طریقہ سیکھتے ہیں، اس دورہ میں، توجہ مذہبی متون اور کتب نہیں ہے اگرچہ عقائد اور تجوید القرآن کی مختصر اور بنیادی کتب بھی پڑھائی جاتی ہے ۔ اصل اور عمیق تعلیم  کا معیار اور ملاک ابتدائی کورس کی تکمیل اور مذہبی متون کا سامنا کرنے اور ان کو سمجھنے اور تحقیق کرنے کی صلاحیت اور آمادگی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مذہبی متون قدیمی ہیں، جس کی زبان کو سمجھنے کے لیے کلاسیکی عربی زبان کا مطالعہ ضروری ہے۔ سطح مقدماتی دورہ گزارنے کے بعد، طلباء فقہ اور اصول فقہ کے متون کے مطالعہ پر توجہ دیتے...

دنیا کا سب سے بڑا انسانی اجتماع، اربعین حسینیؑ یا کمبھ میلہ؟

Image
سب سے بڑا انسانی اجتماع، اربعین حسینیؑ یا کمبھ میلہ؟ جب دنیا میں سب سے بڑے انسانی اجتماع کی بات ہوتی ہے تو اربعین حسینیؑ  کے علاوہ ایک اور نام بھی سامنے آتا ہے “کمبھ میلہ”۔   کمبھ میلہ    ہر تین سال بعد منعقد ہوتا ہے، تاہم اس میلے کا اہم اور بڑا میلہ ہر بارہ سال بعد منعقد ہوتا ہے،اس اجتماع کے ہر تین سال بعد منعقد ہونے والے میلے مرکزی میلے کا حصہ ہی ہوتے ہیں۔مہاکمبھ میلے کے دوران جو چار میلے منعقد ہوتے ہیں ان میں ’ہردوار کمبھ میلا، اللہ آباد کمبھ میلہ، ناستک سنشٹھ میلہ اور اوجین سنشٹھ میلہ شامل ہیں۔ یہ میلے ہندو مہینوں کے مطابق ہوتے ہیں جو عام طور پر جنوری سے اپریل تک آتے ہیں اور ان ہی مہینوں میں ان کا انعقاد کیا جاتا ہے جو تقریبا آٹھ ہفتوں تک جاری رہتا ہے۔ یہ میلے بھارت کی چار ریاستوں اترا کھنڈ، مدھا پردیش، اتر پردیش اور مہارا شٹر کے چار شہروں کے قریب ہندوؤں کے لیے مقدس دریائے گنگا، جمنا(اللہ آباد) اور سروسوتی کے کناروں کے قریب منعقد کیے جاتے ہیں۔ ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ ان دریاوں کے پانی میں نہانے سے ان کے گناہ دھل جائیں گے اور انھیں 'موکش' یعنی بار بار جنم لینے ...

اربعین حسینی ؑ رمز بقائے یاد حسینؑ

Image
اربعین حسینی کی اھمیت:  اربعيـن حسینی کیوں اھم ہے؟ کن خصوصیات کا حامل ہے ؟ امام حسین ع کی شہادت سے محض چالیس دن گزرنے میں کونسی بڑی بات ہے ؟  اربعيـن کی اھمیت اس رو سے ہے کہ امام حسین ع کی شہادت کی یاد تازہ ہوجاتی ہے اور یہ ایک بہت اہم مسئلہ ہے، فرض کریں اگر اس عظیم شہادت کے بعد، بنو امیہ جس طرح امام حسین اور ان کے باوفا اصحاب کو صفحہ ھستی سے مٹانے اور ان کے اجساد پاک کو زیر خاک کرنے میں کامیاب ہوگئے، اسی طرح ان کی یاد کو بھی نسل انسانی کے حافظے سے محو کرنے میں کامیاب ہوجاتے، تو کیا یہ عظیم شہادت اور قربانی عالم اسلام کےلئے فائدہ مند ہوتی؟ یا اگر اس دور میں موثر ہوتی تو کیا تاریخ میں، بعد میں ٓانے والی نسلیں، مستقبل کی مصیبتوں، اندھیروں، تاریکیوں اور یزیدیوں کے لیے بھی اس کا ایک روشن اور افشا کرنے والا اثر ہوتا؟ اگر حسین ع شہید ہوجاتے لیکن اس دور کے لوگ اور آنے والی نسلوں کو امام عالی مقام ع کی جانفشانی کی خبر نہ ہوتی تو کیا اس کا تاریخ، اجتماع انسانی اور قوموں کی ترقی، تعمیر، ھدایت، تحریک اور بیداری میں کوئی کردار ہوتا؟ اظہر من الشمس ہے کہ اس عظیم قیام کا کوئی فائدہ اور ...