حوزوی عناوین اور لقب علّامہ



حوزوی عناوین اور لقب علّامہ


اصل مطلب کی طرف جانے سے پہلے ایک مقدمہ لازمی ہے۔


مقدّمہ 

حوزات علمیہ کا تدریسی نظام تین مراحل پر مشتمل ہے : مقدمات، سطح اور خارج۔


مقدّمات

طالب علم کو شروع میں تین سال کے ابتدائی کورسز سے گزرنا پڑتا ہے، پاکستان میں یہ مرحلہ عموما ۴ سے پانچ سال پر مشتمل ہوتا ہے، جس میں مذہبی متون کے مطالعہ کے لیے آلاتی علوم کا ایک مجموعہ شامل ہے، من باب مثال، اس ابتدائی کورس میں،عربی زبان کے قوائد(Arabic literature

 ) اور منطق جو کہ سوچنے کا صحیح طریقہ سکھاتا ہے اور ادبی متون کا تجزیہ کرنے کا طریقہ سیکھتے ہیں، اس دورہ میں، توجہ مذہبی متون اور کتب نہیں ہے اگرچہ عقائد اور تجوید القرآن کی مختصر اور بنیادی کتب بھی پڑھائی جاتی ہے ۔ اصل اور عمیق تعلیم  کا معیار اور ملاک ابتدائی کورس کی تکمیل اور مذہبی متون کا سامنا کرنے اور ان کو سمجھنے اور تحقیق کرنے کی صلاحیت اور آمادگی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مذہبی متون قدیمی ہیں، جس کی زبان کو سمجھنے کے لیے کلاسیکی عربی زبان کا مطالعہ ضروری ہے۔


سطح

مقدماتی دورہ گزارنے کے بعد، طلباء فقہ اور اصول فقہ کے متون کے مطالعہ پر توجہ دیتے ہیں اور اس دورہ میں تقریباً سات سال گزارتے ہیں جو تین اور چار سال کے دو کورسس پر مشتمل ہے ( البتہ پاکستان میں یہ دورہ دس، بارہ سال تک چلا جاتا ہے )جسے سطحی دورہ کہا جاتا ہے۔ جو دو حصوں میں تقسیم ہوتا ہے، تعارفی یا مقدماتی سطح(سطح اول) اور اعلی درجے کی سطح، سطح عالی(سطح دوم)۔ مقدماتی سطح کے کورس میں فقہ کے تمام ابواب کا نسبتاً مختصر جائزہ لیا جاتا ہے اور ان ( احکام شرعی) کو بنیادی مذہبی متون سے اخذ کرنے کے اصول سکھائے جاتے ہیں جنہیں اصول فقہ کہا جاتا ہے۔ سطح اول کے اختتام پر، طلاب کو لباس روحانیت پہننے کی اجازت ہے اور وہ مکتب اہل بیت علیہم السلام کو پھیلانے اور تبلیغ پر کام کر سکتے ہیں۔ 
سطوح عالیہ میں، فقہ کے نسبتاً مشکل اور پیچیدہ مباحث کو پڑھایا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اصول فقہ کی زیادہ ترقی یافتہ درجہ اور سطح پر بحث کی جاتی ہے۔


خارج


پچھلی سطوح کی کامیابی سے تکمیل کے بعد، طالب علم مزید جدید اور ترقی یافتہ کورسز میں شرکت کے لیے تیار ہوتا ہے جس میں استاد، اکثر اس شعبے کے ممتاز مجتہدوں میں سے ایک ہوتا ہے، ان دروس کو خارج فقہ و اصول کہا جاتا ہے۔ مختلف فقہی اور بنیادی مسائل پر تحقیقی، تقابلی اور تنقیدی انداز میں بحث کی جاتی ہے۔ ان کلاسوں میں طلباء کو اپنے اساتذہ اور ماضی کے فقہا کے خیالات پر تبصرہ اور تنقید کا حق حاصل ہے اور اس کے ذریعے طلباء میں اجتہاد اور فقہی آراء پیدا کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے اور وہ رفتہ رفتہ اجتہاد کے درجے تک پہنچتے ہیں۔

اس مرحلے میں، طلاب دروس خارج میں شرکت کے ضمن میں شروع کے دو سالوں میں سطح سوم کا مقالہ یا thesis  لکھیں گے، اور سطح چھارم تک پہنچنے کے لیے، ان کے پاس درس خارج  میں کم از کم چھ سال کا تجربہ اور مقالہ یا thesis کے لئے ایک علمی رسالہ کا ہونا ضروری ہے۔


اگرچہ یہ تمام مراحل فقہ محور ہے لیکن حوزات میں متعدد تخصصی شعبے موجود ہیں، طلاب سطح اول کی تکمیل کے بعد ان شعبہ جات میں اپنی تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں۔ البتہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ فقہ اور اصول کے علوم کو چھوڑ دیا جائے، بلکہ دونوں شعبے ساتھ ساتھ جاری رہیں گے۔


 دستیاب تحصیلی شعبے :

  • تفسیر القرآن
  • علم کلام یا الہیات
  • اسلامی فلسفہ
  • تبلیغ
  • تاریخ
  • قضاء
  • حدیث
  • نہج البلاغہ
  • اور ...



حوزوی عناوین


حوزہ میں استعمال ہونے والے عنوانات اور القاب بھی مذکورہ بالا درجہ بندی کے تابع ہیں۔ مقدمات اورسطح  کے ابتدائی دور میں طلباء کے پاس مذہبی علوم کے طالب علم ہونے کے علاوہ کوئی عنوان یا لقب نہیں ہوتا۔ سطوح عالیہ یا سطح دوم میں ان پر” حجۃ الاسلام” کا لقب بتدریج اطلاق اور استعمال کرنا ممکن ہے۔ “ حجۃ الاسلام والمسلمین” کا عنوان  بحث خارج کے دورہ میں رایج ہے۔ “آیت اللہ” کا لقب مذکورہ بالا مراحل سے گزرنے کے بعد لگایا جا سکتا ہے۔ ایک آیت اللہ دروس خارج فقہ اور اصول کو نمایاں کامیابی کے ساتھ پاس کیے ہوں گے اور اپنی اجتہاد کی اہلیت کو ثابت کیا ہوگا اور اپنے استاد سے اجتہاد کی اجازت حاصل کی ہوگی۔

مراجع تقلید کو “آیت الله العظمی” کہ عنوان سے پکار جاتا ہے، مرجع تقلید، مجتہد اعلم اور مرجعیت کے تمام شرایط کا حامل ہوتا ہے، ھر مجتہد مرجعیت کے مقام پہ نہیں پہنچتا۔

ان القاب اور عناوین کے علاوہ چند مشہور القاب جو علماء کے لئے بولے جاتے جیسے“شیخ”

لفظ "شیخ" کے مختلف معانی ہیں جیسے عمر رسیدہ، حکیم اور دانشور، کلی طور پر یہ ایک قابل احترام لقب ہے، جو بزرگوں اور صاحب فضل لوگوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، جیسے: شیخ سعدی، شیخ الرئیس ابو علی سینا وغیرہ۔ وہ علماء جو  پیغمبر اسلام کے نسب  سے ہیں، "شیخ" کے بجائے "سید" کا لقب استعمال کیا جاتا ہے جیسے سید مرتضیٰ اور سید رضی۔

اگلا مشہور عنوان لفظ “مُلّا" ہے جو "مولَى”(مالک،دوست)سے ماخوذ ہے، صاحب تاج العروس کے مطابق شاید ایرانیوں یا فارسی بولنے والوں نے یہ لفظ مولَی سے اخذ کیا ہے، یہ لقب حوزہ اور علمی حلقوں میں ماہر اور متبحر علماء کےلئے بولا جاتا ہے۔

انہیں عناوين میں سے ایک اور عنوان “عَلّامہ” ہے، جو محط کلام اور اس تحریر کا مقصد اور موضوع میں سے ہے۔


علّامہ

یہ عنوان پاکستان میں بہت زیادہ رایج ہے اور تقریبا تمام معمم(روحانی لباس پہننے والے) افراد پر اطلاق اور استعمال کیا جاتا ہے، معزز قارئین یقینا کثرت استعمال کی وجہ سے آپ نے بھی یہ لفظ کثرت سے سن رکھا ہے اور آپ کےلئے اجنبی نہیں، شاید آپ بھی اس عنوان کو استعمال کرتے ہو،فرق نہیں کرتا کہ کسی روحانی کو خطاب کرتے ہوتے یا اپنے آپ کو!

اس مقام پر تین اہم سوال اٹھتے ہیں۔

  • لفظ علامہ کا لغوی اور اصطلاحی معنی کیا ہے؟
  • کیا اس عنوان کا استعمال اور اطلاق تمام علماء اور معمم افراد پر درست ہے، اگر نہیں تو کن علماء پر اطلاق کیا جانا چاہیے؟
  • اس عنوان کو عام اور تمام معمم افراد پر استعمال اور اطلاق کرنے پر کونسے تالی فاسد مترتب ہوتے ہیں اور کیا نقصانات ہے؟


لفظ علامہ کا معنی

لغوی معنی:

علّامہ ایک عربی لفظ ہےاور چونکہ ہم اھل لغت میں سے نہیں تو اھل لغت کی طرف رجوع کرنے سے ناگزیر ہیں،

علامہ بروزن فَعّال ہے، جو صِیَغ مبالغہ میں سے ایک صیغہ ہے اور اصطلاح علم بدیع میں مبالغہ سے مراد کسی شخص یا چیز کی تعریف اور مدح میں افراط کرنا یہاں تک کہ ناممکن اور محال کی حد تک نہ پہنچے لیکن اگر مدح میں اس قدر افراط ہو کہ ممکنات کی حد پار کردے اور ناممکن و محال کی حد تک پہنچے تو اسے غُلو کہا جاتا ہے، 

بالفاظ دیگر غُلو، مبالغہ سے ایک درجہ بالاتر ہے، یہاں سے آپ تصور کرسکتے ہیں کہ “علامہ” کا مفہوم کس قدر وسیع اور عظیم ہے، آسان الفاظ میں علامہ یعنی بہت علم والا۔


اصطلاح حوزوی

حوزہ اور علماء کی اصطلاح میں یہ عنوان اور لقب ایسے عالم اور دانشور کے لئے بولا جاتا ہے، جو بہت علم والا ہو، مقداری یا کمی اور کیفی دونوں جہات سے، بہ ای معنی کہ متعدد علوم جانتا ہو اور ھر علم میں ماہر بلکہ صاحب نظر اور مجتہد ہو۔

بالفاظ دیگر “علامہ” یعنی ایسا شخص جو متعدد علوم میں صاحب نظر اور مجتہد ہے، یہاں تک کہ ایک مرجع تقلید جو اپنے زمانہ کہ تمام مجتہدین سے اعلم اور افقہ ہوتا ہے کےلئے بھی یہ عنوان اور لقب نہیں بولا جاتا۔ علوم و معارف الہیہ کی نوعیت اور حوزہ کے تدرسیی نظام کو مدنظر رکھتے ہوئے “علامہ” ایسا شخص ہے جو اپنی زندگی اور سرمایہ عمر  کو علوم اور معارف الہیہ کی راہ میں خرچ، تعلیم، تدریس اور بہت سارے شاگرد تربیت کرچکا ہو اور اس سے بڑھ کر  صاحب تصانیف مہم اور فراوان ہو۔ اصطلاح حوزہ میں ان تمام صفات اور خصوصیات کے جامع شخص پر عنوان “علامہ” کا اطلاق ہوتا ہے۔

گذشتہ پچاس سالوں میں حوزہ کی طرف سے شاید چند، انگشت شمار علماء کو ہی اس لقب سے نوازا گیا ہے، جیسے علامہ طباطبائی جو تفسیر قرآن،فقہ، حدیث،عرفان، فلسفہ، اخلاق، شعر اور خطاطی میں متبحر اور صاحب نظر تھے۔

 علامہ محمدعلی مدرس افغانی، جو صرف، نحو،بلاغت، فقہ، اصول، حدیث میں صاحب نظر اور مجتہد تھے، امامیہ علماء اور کتب میں جہاں صرف علامہ کا بیان آتا ہے تو اس سے مراد علامہ حلی رہ ہے۔ طول تاریخ تشیع میں اگر ایسے علماء جن کو یہ عنوان دیا گیا ہے کو شمار کیا جائے تو ان کی تعداد بہت کم ہے۔



عام ہونے کے نقصانات:

جب ہمارا کسی دوسری لغت اور زبان کے الفاظ سے سامنا ہوتا ہے تو حق یہ ہے کہ ہم ان الفاظ کو انہیں معانی پر حمل اور استعمال کرے جن معانی کے لئے اھل لغت نے ان الفاظ کو وضع کررکھا ہے،خصوصا جب ہمارا سروکار حوزہ سے ہو تو یہ بھی ملاحظہ کرنا واجب ہے کہ حوزہ کی اصطلاح میں اس کا کیا معنی و مفہوم ہے اور موارد و مقامات استعمال کیا ہے تا کہ ہم بھی اس لفظ کو انہیں موارد میں استعمال کرے ۔

مع الاسف پاکستان میں ہمارا سلوک منصفانہ نہیں، یہ عنوان اس قدر شایع،عام اور کم ارزش ہے کہ بہ آسانی مذکورہ بالا اوصاف اور خصوصیات کا لحاظ رکھے بغیر، اشخاص پر استعمال کیا جاتا ہے اور تقریبا اکثر طلاب بلاججک اس عنوان کو اپنے لئے استعمال کرتے ہیں، جب صنف علماء احتیاط نہیں کرتے تو عوام سے کیا گلہ! 

اس عنوان کا عام ہونا باعث تشویش ہے اور معاشرے پر اس کے بہت خطرناک نتائج مرتب ہوسکتا ہے اور جس دن سے یہ عنوان عام ہوا اس وقت سے ہم ان نقصانات کو اپنے معاشرے میں ملاحظہ کرسکتے ہیں۔


ان نقصانات میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں:


قران کریم کی مخالفت:

 قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ (سورہ زمر ۹)

قران کریم کی تصریح کے مطابق جاننے والے اور نہ جاننے والے یکسان نہیں۔

ایک ایسا شخص جو متعدد علوم میں صاحب نظر اور مجتہد ہے، اپنی زندگی اور قیمتی اوقات تعلیم، تدریس اور شاگرد کی تربیت میں صرف کیا اور بہت سارے مہم اور کلیدی تصانیف سے مکتب کی خدمت کی، کیا ایک ایسی شخصیت جو ان صفات اور خصوصیات کا مالک ہے اور ایک ایسے شخص جو طفل مکتب ہے یا فرض کریں سطوح عالیہ یا درس خارج کا طالب علم ہے، میں فرق نہیں؟ کیا یہ یکسان و مساوی ہے؟

بزرگان کے علمی اور معنوی مقام کی توھین :

در حقیقت انسانی اجتماع میں مقامات کی شناخت عناوین اور القابات سے ہوتی ہے، جب اس طرح کے القاب عام ہوجاتے ہیں تو کلان و خرد میں تمیز نہیں رہتی، آپ ایک فیملی کا تصور کریں جہاں افراد میں فرق و تمیز نہ ہو، باپ،ماں اور بچے سب کی حیثیت ایک جیسی ہو تو نہ صرف اس فیملی کا نظام تباہ ہوجاتا ہے بلکہ خدا کی رحمت و برکات بھی نازل نہیں ہوتی ، اسلامی معاشرے بھی ایک فیملی کی مانند ہے، جس معاشرے میں ان کے بزرگان، صاحبان علم و فضل و تقوی کی توھین ہوتی ہو اور ان کی حیثیت اور مقام کی اھمیت نہ ہو تو معاشرے ترقی نہیں کرتا، اعتماد کی فضاء ختم اور سیر تکاملی متوقف ہوجاتا ہے۔

ایک دھوکہ:

خود کو ایسے صفات و خصوصیات اور صلاحیتوں والا ظاھر کرنا جو کہ در اصل ان کا مالک نہیں تو گویا یہ ملاوٹ اور ٖغش ہے، شریعت مقدسہ میں یہ عمل مذموم ہے اس عمل کا لازمہ کذب ہے،وہ علماء جو واقعا اس عنوان کے لائق ہے اور صاحب کمالات علمی و معنوی ہے کی شناخت مشکل ہوجاتی ہے خصوصا عام مومنین کے لئے۔

نااھل کا اھل کے مسند پر قابض ہونا:

“الناس علی دین ملوکهم “کسی بھی اجتماع انسانی کی ترقی اور کامیابی میں ان کے حکمران اور زمامداران امور کا حیاتی کردار ہوتا ہے، تاریخ گواہ ہے کہ جن اقوام اور ملل کے زمامدار ناھل تھے نسل در نسل غلامی اور ذلالت کی زندگی ان کا مقدر رہی ہے، عینا دینی اور مذھبی امور میں ایسے ناھل افراد کا ان عناوین اور القاب سے سامنے آنا اہم مقامات اور وظائف پر قابض ہونا اھل اشخاص کی حق تلفی کے ساتھ ساتھ دین کی تضعیف کا بھی موجب بنتا ہے۔


کلام بہت ہے نہ تو اس مختصر کی گنجائش ہے اور نہ ہی ہمارا بناء اطالہ پر ہے، تو خود حدیث مفصل بخوان از  این مجمل۔


نتیجہ

مذکورہ بالا مطالب سے واضح ہوچکا کہ اگر کسی شخص میں بیان کئے گئے صفات اور خصوصیات نہ ہو تو حرام ہے وہ اپنے لئے عنوان “علّامہ” استعمال کرے یا لوگوں کا اس کےلئے استعمال کرنے پر راضی ہو۔

اولا: قرآن کی مخالفت ہے

ثانیا: جھوٹ اور کذب ہے

ثالثا: تضعیف دین کا موجب بنتا ہے

رابعا: اھل علماء کی توھین اور حق تلفی ہے


لذا نہ صرف لغة اور اصطلاحا درست نہیں بلکہ شرعا بھی جائز نہیں۔



رحیم حسین محقق زادہ خراسانی









Comments

Popular posts from this blog

دنیا کا سب سے بڑا انسانی اجتماع، اربعین حسینیؑ یا کمبھ میلہ؟

اربعین حسینی ؑ رمز بقائے یاد حسینؑ